اینڈومیٹریوسس اور حمل کا ذکر آتے ہی اکثر پہلا سوال ہوتا ہے: «کیا میں ماں بن سکتی ہوں؟» اگر ماہواری کا درد بھی ہو اور گھر میں خوش خبری کا انتظار بھی، تو یہ فکر مزید بھاری لگ سکتی ہے۔ میں ڈاکٹر منور ثنا ہوں، اور میری بات واضح ہے: یہ بیماری حمل کو مشکل بنا سکتی ہے، ناممکن نہیں۔
کچھ خواتین قدرتی طور پر حاملہ ہو جاتی ہیں، جبکہ کچھ کو علاج یا IVF کی ضرورت پڑتی ہے۔ ہر خاتون کا راستہ الگ ہوتا ہے۔ میں درد کو صرف «برداشت کی بات» نہیں سمجھتی، اور نہ ہی صرف ایک اسکین دیکھ کر حمل کے امکان کا فیصلہ کرتی ہوں۔
اینڈومیٹریوسس کیا ہے، اور حمل پر کیسے اثر ڈالتی ہے؟
اینڈومیٹریوسس میں بچہ دانی کی اندرونی تہہ سے ملتا جلتا ٹشو بچہ دانی کے باہر بڑھنے لگتا ہے، مثلاً بیضہ دانی یا پیڑو کے اندر۔ اس سے سوزش، درد اور اندرونی چپکاؤ بن سکتے ہیں۔ بیضہ دانی میں پرانے خون والی رسولی کو اینڈومیٹریوما، یا عام زبان میں چاکلیٹ سسٹ کہتے ہیں۔
یہ تبدیلیاں کبھی انڈے اور نطفے کے ملنے میں رکاوٹ ڈالتی ہیں، کبھی نالیوں یا بیضہ دانی کے کام کو متاثر کرتی ہیں۔ لیکن بیماری کی شدت اور درد ہمیشہ ایک جیسے نہیں ہوتے۔ بہت درد ہونے کا مطلب لازماً کم امکانِ حمل نہیں، اور معمولی درد بیماری نہ ہونے کی ضمانت نہیں۔
شدید ماہواری درد، ازدواجی تعلق کے دوران اندرونی درد، ماہواری کے آس پاس پاخانے یا پیشاب میں درد، اور حمل ٹھہرنے میں تاخیر اہم اشارے ہیں۔ یہ علامات دوسری وجوہات سے بھی ہو سکتی ہیں۔ PCOS الگ کیفیت ہے، جس میں عموماً انڈہ خارج ہونے کی بےقاعدگی ہوتی ہے؛ دونوں کی جانچ اور علاج یکساں نہیں۔
اگر درد سے دفتر، پڑھائی، نماز یا روزمرہ کام متاثر ہوں تو اسے معمول کی ماہواری کہہ کر نظرانداز نہ کریں۔ اچانک شدید درد، بےہوشی، بخار یا بہت زیادہ خون بہنے پر فوری طبی مدد لیں۔ حمل کا ٹیسٹ مثبت ہو اور ساتھ درد یا خون آئے تو بھی فوراً معائنہ ضروری ہے۔
حمل کی منصوبہ بندی میں کون سی جانچ ضروری ہے؟
میں پہلے آپ کی عمر، ماہواری، درد، سابقہ آپریشن اور حمل کی کوشش کی مدت سمجھتی ہوں۔ معلوم یا مشتبہ اینڈومیٹریوسس ہو تو پورا سال انتظار کرنا ضروری نہیں؛ جلد مشورہ مناسب ہو سکتا ہے۔ فیصلہ صرف کیلنڈر پر نہیں، آپ کی علامات اور تولیدی صحت کی مجموعی صورتِ حال پر ہوتا ہے۔
الٹراساؤنڈ سے بعض سسٹ اور دوسری تبدیلیاں دیکھی جا سکتی ہیں، مگر نارمل اسکین اینڈومیٹریوسس کو مکمل طور پر خارج نہیں کرتا۔ کچھ حالات میں MRI مددگار ہوتا ہے۔ لیپروسکوپی، یعنی چھوٹے سوراخوں سے کیمرے کے ذریعے اندر دیکھنے کا آپریشن، ہر مریضہ کی تشخیص کے لیے لازمی پہلا قدم نہیں ہے۔
ضرورت کے مطابق میں نالیوں کے کھلے ہونے کی جانچ، شوہر کے منی کے تجزیے اور بیضہ دانی کے ذخیرے کا جائزہ تجویز کرتی ہوں۔ AMH اس ذخیرے کا ایک اشارہ ہے، انڈوں کے معیار یا قدرتی حمل کا قطعی فیصلہ نہیں۔ ایک کم رپورٹ کو اپنی ساری امید کا پیمانہ نہ بنائیں۔
شوہر کی جانچ ساتھ کروانا کسی پر شک کرنا نہیں، بلکہ غیرضروری تاخیر سے بچنا ہے۔ ہمارے گھرانوں میں اکثر ساری ذمہ داری عورت پر ڈال دی جاتی ہے؛ طبی طور پر یہ درست نہیں۔ میں چاہتی ہوں کہ مشاورت میں دونوں شریک ہوں، مگر آپ کی رازداری اور سہولت ہمیشہ مقدم رہیں۔
علاج: کب انتظار، کب آپریشن، اور کب IVF؟
علاج کا انتخاب اس بات سے بدلتا ہے کہ ابھی مقصد درد کم کرنا ہے یا حمل حاصل کرنے کی کوشش۔ کچھ ہارمون والی دوائیں درد قابو کرتی ہیں، مگر استعمال کے دوران حمل کی کوشش کے لیے موزوں نہیں ہوتیں۔ انہیں خود سے شروع یا بند نہ کریں؛ منصوبہ ڈاکٹر کے ساتھ طے کریں۔
منتخب حالات میں محدود مدت تک قدرتی کوشش یا انڈہ خارج ہونے کے وقت کے مطابق رہنمائی مناسب ہوتی ہے۔ بعض جوڑوں میں تیار کیے ہوئے نطفے بچہ دانی میں ڈالنے کا طریقہ مددگار ہو سکتا ہے۔ عمر، نالیوں کی حالت، منی کی رپورٹ اور کوشش کی مدت اس انتخاب میں اہم ہیں۔
IVF میں انڈے نکال کر لیبارٹری میں نطفے سے ملائے جاتے ہیں، پھر مناسب جنین بچہ دانی میں منتقل کیا جاتا ہے۔ یہ نالیوں کی بعض رکاوٹوں کو بائی پاس کر سکتا ہے، مگر اینڈومیٹریوسس کا مستقل علاج نہیں۔ میں اس کے فائدے، حدود اور ممکنہ خطرات سمجھاتی ہوں؛ حمل کی ضمانت دینا درست نہیں۔
ہر چاکلیٹ سسٹ کا آپریشن ضروری نہیں، خصوصاً IVF سے پہلے۔ بعض اوقات آپریشن درد یا مخصوص رکاوٹ میں مدد دیتا ہے، لیکن بیضہ دانی کا ذخیرہ بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ سسٹ کی شکل، علامات، پچھلے آپریشن اور آئندہ منصوبے دیکھ کر فائدے اور نقصان کا موازنہ ضروری ہے۔
علاج کا خرچ بھی ایک جیسا نہیں ہوتا۔ جانچ، دوائیں، آپریشن کی ضرورت، IVF کے مراحل اور اضافی طریقوں سے فرق پڑتا ہے۔ میں پہلے طبی ضرورت واضح کرتی ہوں؛ مشاورت کے بعد آپ کے ذاتی منصوبے کے مطابق تخمینہ دیا جا سکتا ہے۔ صرف سستا پیکیج دیکھ کر علاج منتخب نہ کریں۔
غلط فہمیاں اور حقیقت: خوراک، یوگا اور گھر والوں کا کردار
غلط فہمی: «شادی یا حمل سے بیماری ہمیشہ ختم ہو جاتی ہے۔» حقیقت: حمل کے دوران بعض علامات وقتی طور پر کم ہو سکتی ہیں، مگر اسے علاج نہیں سمجھنا چاہیے۔ اسی طرح شدید ماہواری درد عورت کی کمزوری، نازک مزاجی یا برداشت کی کمی کا ثبوت نہیں؛ اسے سنجیدگی سے سننا ضروری ہے۔
غلط فہمی: «خاص غذا، قہوہ یا یوگا سسٹ گھلا دے گا۔» حقیقت: کسی مخصوص خوراک یا یوگا سے اینڈومیٹریوسس ختم ہونے کا قابلِ اعتماد ثبوت نہیں۔ میری 360° نگہداشت میں سائنسی شواہد پر مبنی علاج کے ساتھ غذائیت، مناسب یوگا، نیند اور طرزِ زندگی شامل ہیں؛ یہ علاج کا سہارا ہیں، متبادل نہیں۔
دالیں، سبزیاں، پھل، مناسب پروٹین اور حسبِ برداشت جسمانی سرگرمی عمومی صحت میں مدد دیتے ہیں۔ بلاوجہ دودھ، گندم یا پورے غذائی گروہ بند نہ کریں۔ دعا اور ایمان سکون کا ذریعہ ہو سکتے ہیں؛ علاج لینا ان کے خلاف نہیں۔ سسرال اور گھر والوں سے میری درخواست ہے: سوالوں کا دباؤ نہیں، عملی مدد دیں۔
اہم باتیں اور آپ کا اگلا قدم
یاد رکھیں: اینڈومیٹریوسس میں حمل ممکن ہے، مگر مناسب وقت پر انفرادی منصوبہ ضروری ہے۔ درد نظرانداز نہ کریں، AMH کو آخری فیصلہ نہ سمجھیں، اور ہر سسٹ کے لیے آپریشن لازم نہ مانیں۔ ملاقات پر اپنی سابقہ رپورٹس، دواؤں کی فہرست اور ماہواری و درد کی مختصر ڈائری ساتھ لائیں۔
Want a personalised plan based on your reports?
Book an online consultation with Dr. Sana, or see her at Apollo Fertility, Kondapur (Mon, Tue, Wed, Thu & Sat, 1:00 PM – 6:00 PM). No referral required.
References & clinical guidelines
- Indian Council of Medical Research — National ART Guidelines and the ART (Regulation) Act, 2021
- ESHRE — European Society of Human Reproduction and Embryology, clinical practice guidelines
- NICE CG156 — Fertility problems: assessment and treatment
- Royal College of Obstetricians and Gynaecologists — patient information and guidelines



