پہلی اولاد کے بعد حمل نہ ٹھہرنا اکثر حیرانی اور پریشانی دونوں لاتا ہے۔ آپ سوچتی ہیں: پہلے تو کوئی مسئلہ نہیں تھا، اب کیا بدل گیا؟ گھر میں دوسرے بچے کی باتیں، رشتہ داروں کے سوال اور پہلے بچے کے لیے بہن بھائی کی خواہش اس انتظار کو بھاری بنا سکتے ہیں۔ میں ڈاکٹر منور ثنا، Apollo Fertility، کونڈاپور، حیدرآباد میں فرٹیلیٹی اور مینوپاز اسپیشلسٹ ہوں۔ میری پہلی بات یہی ہے: یہ آپ کی غلطی نہیں، اور پہلے حمل کی تاریخ کے باوجود نئی جانچ کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
Secondary Infertility کیا ہے، اور کب مدد لیں؟
پہلے کبھی حمل ٹھہر چکا ہو، لیکن بعد میں باقاعدہ، بغیر مانع حمل تعلق کے باوجود دوبارہ حمل نہ ہو، تو اسے Secondary Infertility کہتے ہیں۔ روزمرہ میں اکثر یہ مسئلہ پہلی اولاد کے بعد سامنے آتا ہے، مگر طبی تعریف میں ضروری نہیں کہ پچھلا حمل بچے کی پیدائش تک پہنچا ہو۔ ایک ہی جوڑے کی تولیدی صحت بھی وقت کے ساتھ بدل سکتی ہے۔
اگر خاتون کی عمر 35 سال سے کم ہے تو عموماً 12 ماہ کوشش کے بعد جانچ کروانی چاہیے۔ 35 سال یا اس سے زیادہ عمر میں چھ ماہ بعد مشورہ بہتر ہے۔ 40 سال سے زیادہ عمر ہو تو انتظار کے بجائے جلد بات کریں۔ یہ مدت باقاعدہ، بغیر مانع حمل ازدواجی تعلق کے دوران کوشش کی ہے، صرف پچھلی زچگی سے گزرے ہوئے وقت کی نہیں۔
ماہواری بہت بے قاعدہ یا بند ہو، شدید درد ہو، پہلے ایکٹوپک حمل یعنی رحم کے باہر حمل رہا ہو، یا نالیوں، اینڈومیٹریوسس یا سپرم کا معلوم مسئلہ ہو تو پہلے ہی ملیں۔ دودھ پلانے سے بیضہ بننے میں دیر ہو سکتی ہے، لیکن ماہواری آنے سے پہلے بھی بیضہ خارج ہو سکتا ہے۔ اس لیے دودھ پلانا نہ مستقل بانجھ پن ہے، نہ ہر حالت میں قابلِ اعتماد مانع حمل طریقہ۔
پہلے سب ٹھیک تھا، اب رکاوٹ کیوں؟
عمر ایک اہم وجہ ہے۔ وقت کے ساتھ بیضوں کی تعداد اور معیار کم ہو سکتے ہیں، چاہے پہلا حمل آسانی سے ٹھہرا ہو۔ PCOS میں بیضہ باقاعدگی سے خارج نہیں ہوتا؛ تھائرائڈ یا بعض دوسرے ہارمون کے مسائل بھی اس عمل کو متاثر کر سکتے ہیں۔ وزن میں نمایاں تبدیلی، کچھ دوائیں اور دائمی بیماریوں کی کیفیت بھی دیکھنی پڑتی ہے۔ ہر بے قاعدہ ماہواری کا مطلب PCOS نہیں ہوتا۔
بعض اوقات مسئلہ بیضہ دانی کے بجائے رحم یا فیلوپین ٹیوبز میں ہوتا ہے۔ یہ وہ نالیاں ہیں جہاں عموماً بیضہ اور سپرم ملتے ہیں۔ انفیکشن یا کچھ آپریشن کے بعد نالیوں میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اینڈومیٹریوسس، رحم کے اندر چپکاؤ، پولپس یا بعض فائبرائڈز بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔ تاہم ہر فائبرائڈ حمل نہیں روکتا، اور پہلے سیزیرین ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اگلا حمل لازماً مشکل ہوگا۔
مرد کی صحت کو نظرانداز کرنا بھی ایک عام غلطی ہے۔ پہلے والد بن چکے ہوں، تب بھی سپرم کی تعداد، حرکت یا ساخت بدل سکتی ہے۔ تمباکو، بعض بیماریاں، خصیوں کے مسائل اور ٹیسٹوسٹیرون یا باڈی بلڈنگ کے بعض ہارمون سپرم کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی، چھوٹے بچے کی دیکھ بھال، الگ رہنا، تھکن یا تعلق میں تکلیف کی وجہ سے حمل کے مناسب دنوں میں تعلق کم ہو سکتا ہے۔ میں یہ سوال احترام اور رازداری کے ساتھ پوچھتی ہوں، الزام دینے کے لیے نہیں۔
کون سے ٹیسٹ، اور علاج کیسے طے ہوتا ہے؟
میں دونوں ساتھیوں کی تاریخ سے آغاز کرتی ہوں: پچھلا حمل، زچگی، انفیکشن، آپریشن، ماہواری، دوائیں اور کوشش کا دورانیہ۔ خاتون کا الٹراساؤنڈ رحم اور بیضہ دانی کی معلومات دیتا ہے، جبکہ مرد کا semen analysis، یعنی منی کا تجزیہ، ابتدائی جانچ کا اہم حصہ ہے۔ صرف خاتون کے بار بار ٹیسٹ کروانا اور شوہر کی جانچ مؤخر کرنا مناسب نہیں۔ غیر معمولی نتیجے کی تصدیق کے لیے کبھی ٹیسٹ دہرانا پڑتا ہے۔
ضرورت کے مطابق بیضہ بننے کی جانچ، تھائرائڈ یا دوسرے ہارمون کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ AMH اور الٹراساؤنڈ میں چھوٹے فولیکلز کی گنتی بیضوں کے ذخیرے اور علاج میں ممکنہ ردعمل کا اندازہ دیتی ہے۔ AMH اکیلا بیضوں کا معیار نہیں بتاتا، نہ قدرتی حمل ہونے یا نہ ہونے کا حتمی فیصلہ کرتا ہے۔ کم AMH کا مطلب صفر امکان نہیں، اور نارمل AMH حمل کی ضمانت نہیں۔
نالیوں کے کھلے ہونے کی جانچ کے لیے HSG یا مناسب الٹراساؤنڈ پر مبنی ٹیسٹ تجویز ہو سکتا ہے۔ HSG میں خاص رنگ اور ایکسرے سے نالیاں دیکھی جاتی ہیں۔ ہر مریضہ کو ہر ٹیسٹ، ہسٹروسکوپی یا لیپروسکوپی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ میں ٹیسٹ کا مقصد، تکلیف یا خطرات اور نتیجے سے علاج میں آنے والی تبدیلی پہلے واضح کرتی ہوں۔ کبھی بنیادی جانچ نارمل ہونے کے باوجود وجہ سامنے نہیں آتی۔
علاج وجہ، عمر، کوشش کی مدت اور دونوں کی رپورٹس کے مطابق منتخب ہوتا ہے۔ کسی کو مناسب دنوں کی رہنمائی یا بیضہ بننے کی دوا کافی ہو سکتی ہے؛ کسی کو مخصوص بیماری کا علاج درکار ہوتا ہے۔ منتخب صورتوں میں IUI، یعنی تیار کیے گئے سپرم رحم میں ڈالنا، یا IVF، یعنی لیبارٹری میں بیضے اور سپرم سے جنین بنانا، زیرِ غور آتا ہے۔ ہر جوڑے کو IVF نہیں چاہیے۔ خرچ ٹیسٹ، دواؤں، طریقۂ علاج اور اضافی ضروریات کے مطابق بدلتا ہے؛ ذاتی تخمینہ مشورے کے بعد دیا جاتا ہے۔
عام غلط فہمیاں اور حقیقت
غلط فہمی: ایک بچہ ہے تو دونوں کی زرخیزی ٹھیک ہے۔ حقیقت: پرانا حمل اُس وقت کی صلاحیت بتاتا ہے، آج کی نہیں۔ غلط فہمی: دوسری اولاد نہ ہونا صرف عورت کا مسئلہ ہے۔ حقیقت: وجہ عورت، مرد، دونوں میں ہو سکتی ہے، یا جانچ میں واضح نہیں ہوتی۔ اسی لیے میں اسے جوڑے کی مشترکہ طبی ضرورت سمجھتی ہوں۔
غلط فہمی: بس تناؤ کم کریں، حمل ٹھہر جائے گا۔ حقیقت: جذباتی سہارا اہم ہے، مگر نالی کی رکاوٹ یا سپرم کے مسئلے کا متبادل نہیں۔ غلط فہمی: یوگا، دیسی نسخے یا سپلیمنٹس ہر مسئلہ ٹھیک کر دیتے ہیں۔ میرے 360° طریقۂ نگہداشت میں سائنسی شواہد پر مبنی علاج کے ساتھ متوازن غذا، مناسب جسمانی سرگرمی، نیند اور موزوں یوگا شامل ہیں۔ یہ مجموعی صحت کا سہارا ہیں، حمل کی ضمانت یا ضروری علاج کا بدل نہیں۔
اہم باتیں یاد رکھیں
وقت پر مدد لیں، دونوں ساتھی جانچ میں شریک ہوں، اور رپورٹس کو الگ الگ نہیں بلکہ پوری طبی صورتِ حال کے ساتھ سمجھیں۔ خود سے ہارمون یا فرٹیلیٹی دوائیں شروع نہ کریں۔ گھر والوں سے کتنی بات بانٹنی ہے، یہ آپ دونوں کا فیصلہ ہے۔ ایک بچہ ہونے سے دوسرے بچے کی خواہش یا اس انتظار کا دکھ کم اہم نہیں ہو جاتا۔
Want a personalised plan based on your reports?
Book an online consultation with Dr. Sana, or see her at Apollo Fertility, Kondapur (Mon, Tue, Wed, Thu & Sat, 1:00 PM – 6:00 PM). No referral required.
References & clinical guidelines
- Indian Council of Medical Research — National ART Guidelines and the ART (Regulation) Act, 2021
- ESHRE — European Society of Human Reproduction and Embryology, clinical practice guidelines
- NICE CG156 — Fertility problems: assessment and treatment
- Royal College of Obstetricians and Gynaecologists — patient information and guidelines


