IVF کی کامیابی کے بارے میں سب سے اہم سوال شاید یہ نہیں کہ کتنے انڈے ملیں گے، بلکہ یہ ہے کہ آپ کے لیے حقیقت پسندانہ امید کیا ہے۔ خاندان میں کسی کا پہلی کوشش میں حمل ٹھہر جانا آپ کے نتیجے کی پیش گوئی نہیں کرتا۔ اسی طرح ایک ناکام کوشش، ہمیشہ ناکامی کا فیصلہ نہیں ہوتی۔
میں ڈاکٹر منور ثنا ہوں، Apollo Fertility، کونڈاپور، حیدرآباد میں فرٹیلیٹی اور مینوپاز اسپیشلسٹ۔ میرے نزدیک اچھی مشاورت وہ ہے جس میں امید کے ساتھ حدود بھی واضح ہوں۔ IVF میں انڈے اور نطفے کو لیب میں ملا کر ایمبریو بنایا جاتا ہے، پھر مناسب وقت پر اسے بچہ دانی میں منتقل کیا جاتا ہے۔
عمر اور انڈوں کا معیار: AMH پوری کہانی نہیں
عورت کی عمر IVF کے نتیجے پر اہم اثر ڈالتی ہے، خصوصاً جب اپنے انڈے استعمال ہوں۔ عمر بڑھنے کے ساتھ انڈوں کی تعداد اور ان میں کروموسوم کی درست ترتیب کا امکان عموماً کم ہوتا ہے۔ کروموسوم وہ ساختیں ہیں جن میں جینیاتی معلومات ہوتی ہیں؛ ان کی خرابی حمل ٹھہرنے یا برقرار رہنے میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
یہ تبدیلی ہر عورت میں ایک جیسی رفتار سے نہیں ہوتی، اور کسی ایک سالگرہ پر اچانک سب کچھ نہیں بدلتا۔ پھر بھی علاج کا وقت اہم ہے۔ صرف اس امید میں طویل انتظار کرنا کہ کوئی غذا یا سپلیمنٹ انڈوں کی عمر پلٹ دے گا، مناسب حکمت عملی نہیں۔
AMH اور الٹراساؤنڈ میں چھوٹے فولیکلز کی گنتی سے اندازہ ملتا ہے کہ دواؤں سے کتنے انڈے حاصل ہونے کی توقع ہو سکتی ہے۔ فولیکل انڈے کے گرد چھوٹی سی تھیلی ہوتی ہے۔ یہ ٹیسٹ انڈے کے جینیاتی معیار کو براہ راست نہیں ناپتے اور اکیلے حمل کی ضمانت یا ناممکن ہونے کا فیصلہ نہیں کرتے۔
کم AMH کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ حمل نہیں ٹھہر سکتا، جبکہ زیادہ AMH لازماً بہتر معیار کی نشانی نہیں۔ PCOS میں AMH زیادہ ہو سکتا ہے، مگر دواؤں سے ضرورت سے زیادہ ردعمل کا خطرہ بھی رہتا ہے۔ اسی لیے عمر، ماہواری، الٹراساؤنڈ اور سابقہ علاج کو ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔
نطفے، ایمبریو اور لیب: کامیابی ایک مشترکہ عمل
ہمارے معاشرے میں اکثر ساری توجہ عورت کی رپورٹس پر رہتی ہے، حالانکہ مرد کا جائزہ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ نطفوں کی تعداد، حرکت اور شکل اہم معلومات دیتی ہیں۔ ضرورت کے مطابق مردانہ تولیدی صحت کے ماہر کی رائے لی جا سکتی ہے؛ ہر شخص کو ہر اضافی ٹیسٹ کروانا ضروری نہیں۔
سگریٹ، تمباکو، بعض بیماریاں اور کچھ دوائیں نطفے کو متاثر کر سکتی ہیں۔ مردانہ طاقت یا جم کے لیے لیے جانے والے testosterone اور anabolic steroids بھی نطفے کی پیداوار دبا سکتے ہیں۔ کوئی دوا خود سے بند نہ کریں، مگر ڈاکٹر کو تمام دواؤں، حکیمی نسخوں اور سپلیمنٹس کے بارے میں ضرور بتائیں۔
بعض حالات میں ICSI مفید ہوتی ہے، جس میں ایک نطفہ براہ راست انڈے کے اندر داخل کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ ہر جوڑے کے لیے لازماً بہتر طریقہ نہیں، نہ ہی انڈے یا نطفے کے تمام جینیاتی مسائل ختم کرتی ہے۔ میری ترجیح طریقہ کار کی وجہ سمجھانا ہے، صرف اس کا نام بتانا نہیں۔
لیب میں درجہ حرارت، ہوا کا معیار، ایمبریو رکھنے کا ماحول، شناخت کی محفوظ جانچ اور تربیت یافتہ ایمبریولوجسٹ کی مہارت اہم ہیں۔ ایمبریولوجسٹ وہ ماہر ہوتا ہے جو انڈوں، نطفوں اور ایمبریو کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ صرف شاندار عمارت یا کسی مشین کا اشتہار لیب کے معیار کا مکمل ثبوت نہیں۔
ایمبریو کی اچھی گریڈنگ حوصلہ دیتی ہے، مگر ظاہری شکل سے اس کی تمام جینیاتی معلومات معلوم نہیں ہوتیں۔ کلینک سے پوچھیں کہ کامیابی سے مراد مثبت ٹیسٹ، الٹراساؤنڈ پر حمل یا زندہ بچے کی پیدائش ہے۔ شرحیں دیکھتے وقت اپنی عمر کے گروپ اور فی سائیکل یا فی ٹرانسفر کا فرق بھی سمجھیں۔
ذاتی پروٹوکول اور میری 360° نگہداشت
پروٹوکول سے مراد دواؤں، نگرانی اور علاج کے مراحل کا منصوبہ ہے۔ یہ عمر، AMH، PCOS، وزن، دوسری بیماریوں اور پچھلے سائیکل کے ردعمل کے مطابق ہونا چاہیے۔ زیادہ دوا ہمیشہ زیادہ اچھے انڈے نہیں بناتی۔ مقصد مناسب ردعمل حاصل کرنا اور پیچیدگیوں، خصوصاً بیضہ دانی کی حد سے زیادہ تحریک، سے بچنا ہے۔
بچہ دانی کی کیفیت بھی اہم ہے۔ بعض پولپس، اندرونی جگہ کو متاثر کرنے والی رسولیاں، یا پانی بھری بند نالیاں مزید جانچ اور علاج کا تقاضا کر سکتی ہیں۔ ہر معمولی تبدیلی پر آپریشن ضروری نہیں۔ ایمبریو فوراً منتقل کرنا ہے یا فریز کرکے بعد میں، یہ فیصلہ بھی طبی حالات کے مطابق ہونا چاہیے۔
میری 360° اپروچ میں سائنسی شواہد پر مبنی علاج کے ساتھ غذائیت، نیند، مناسب جسمانی سرگرمی اور جذباتی مدد شامل ہیں۔ متوازن گھریلو کھانا، دالیں، سبزیاں، پھل اور مناسب پروٹین بنیادی چیزیں ہیں۔ کسی مہنگے پاؤڈر یا خاص پھل سے IVF کامیاب ہونے کا وعدہ قابل اعتماد نہیں۔
یوگا اور سانس کی نرم مشقیں ذہنی سکون میں مدد دے سکتی ہیں، مگر علاج کا متبادل نہیں۔ انجیکشن کے دوران بیضہ دانیاں بڑی ہو سکتی ہیں، اس لیے سخت ورزش یا جسم کو زیادہ مروڑنے والی حرکات سے پہلے مشورہ کریں۔ ذہنی دباؤ ہونے پر خود کو قصوروار نہ سمجھیں؛ ناکامی آپ کی سوچ کا نتیجہ نہیں۔
غلط فہمیاں اور اصل حقائق
غلط فہمی: زیادہ انڈے ملیں تو بچہ ہونا طے ہے۔ حقیقت: ہر انڈہ پختہ نہیں ہوتا، ہر پختہ انڈے سے ایمبریو نہیں بنتا، اور ہر ایمبریو حمل تک نہیں پہنچتا۔ تعداد اہم ضرور ہے، مگر معیار اور ہر مرحلے کی پیش رفت بھی اہم ہیں۔
غلط فہمی: دو یا تین ایمبریو رکھوانا ہمیشہ بہتر ہے۔ حقیقت: ایک سے زیادہ ایمبریو منتقل کرنے سے جڑواں یا زیادہ بچوں والے حمل کا خطرہ بڑھتا ہے، جو ماں اور بچوں کے لیے پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ مناسب صورتوں میں ایک ایمبریو منتقل کرنا زیادہ محفوظ انتخاب ہوتا ہے۔
غلط فہمی: پہلی کوشش ناکام ہو تو مہنگے اضافی ٹیسٹ لازمی ہیں۔ حقیقت: پہلے پورے سائیکل کا جائزہ ضروری ہے۔ ہر اضافی طریقے کا فائدہ ثابت نہیں، اور ایمبریو کی جینیاتی جانچ بھی سب کے لیے لازمی نہیں۔ میں ہر تجویز کے فائدے، حدود اور متبادل واضح کرنے کو اہم سمجھتا ہوں۔
اہم باتیں اور آپ کا اگلا قدم
اہم بات یہ ہے کہ عمر، دونوں شریکِ حیات کی صحت، لیب اور ذاتی منصوبہ مل کر امکانات بناتے ہیں۔ مشاورت میں اپنی رپورٹس اور سابقہ علاج کی تفصیل لائیں۔ گھر والوں کی حمایت مفید ہے، مگر علاج کے فیصلے جوڑے کی رضامندی، رازداری اور سہولت کے ساتھ ہونے چاہییں۔
Want a personalised plan based on your reports?
Book an online consultation with Dr. Sana, or see her at Apollo Fertility, Kondapur (Mon, Tue, Wed, Thu & Sat, 1:00 PM – 6:00 PM). No referral required.
References & clinical guidelines
- Indian Council of Medical Research — National ART Guidelines and the ART (Regulation) Act, 2021
- ESHRE — European Society of Human Reproduction and Embryology, clinical practice guidelines
- NICE CG156 — Fertility problems: assessment and treatment
- Royal College of Obstetricians and Gynaecologists — patient information and guidelines


