IVF کا مکمل سفر سمجھنا چاہتی ہیں، مگر انجیکشن، انڈے نکالنے اور pregnancy test کے خیال سے گھبراہٹ ہوتی ہے؟ یہ فطری ہے۔ کئی جوڑوں کے لیے علاج کے ساتھ گھر والوں کے سوالات اور خرچ کی فکر بھی چلتی ہے۔ میں، ڈاکٹر منور ثنا، سمجھتی ہوں کہ ہر مرحلے سے پہلے آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ کیا ہوگا، کیوں ہوگا اور آپ کے پاس کون سے انتخاب ہیں۔
IVF میں انڈوں اور سپرم کو لیبارٹری میں ملا کر ایمبریو، یعنی ابتدائی جنین، بنایا جاتا ہے۔ پھر منتخب ایمبریو رحم میں رکھا جاتا ہے۔ یہ بعض جوڑوں کے لیے مؤثر علاج ہے، لیکن ہر کسی کا پہلا قدم نہیں اور حمل کی ضمانت بھی نہیں۔ منصوبہ ہمیشہ آپ کی ضرورت کے مطابق بنتا ہے۔
۱۔ پہلی مشاورت: کیا IVF آپ کے لیے مناسب ہے؟
پہلی ملاقات میں میں صرف رپورٹس نہیں دیکھتی۔ ماہواری، پہلے حمل یا اسقاط، آپریشن، دوائیں، شادی کے بعد حمل کی کوشش کی مدت اور دونوں ساتھیوں کی صحت پر بات کرتی ہوں۔ بند ٹیوبیں، سپرم کے بعض مسائل یا دوسرے علاج ناکام ہونے پر IVF زیرِ غور آ سکتا ہے۔ بعض حالات میں نسبتاً سادہ علاج مناسب رہتا ہے۔
جانچ دونوں ساتھیوں کی ہوتی ہے؛ حمل نہ ٹھہرنے کی ذمہ داری صرف عورت پر ڈالنا درست نہیں۔ ضرورت کے مطابق الٹراساؤنڈ، ہارمون ٹیسٹ، سپرم کا تجزیہ اور انفیکشن کی اسکریننگ کی جاتی ہے۔ AMH اور الٹراساؤنڈ سے انڈہ دانی کے ممکنہ ردِعمل کا اندازہ ملتا ہے۔ AMH اکیلا انڈوں کا معیار یا حمل کا امکان طے نہیں کرتا۔
اسی مرحلے پر اخراجات، رضامندی، ایمبریو محفوظ کرنے اور علاج کی حدود پر بات ہونی چاہیے۔ IVF کی لاگت دواؤں، جانچ، ICSI کی ضرورت، ایمبریو فریز کرنے، اسٹوریج اور ٹرانسفر کے منصوبے سے بدلتی ہے۔ مشاورت کے بعد آپ کی صورتِ حال کے مطابق ذاتی تخمینہ دیا جاتا ہے؛ پوچھیں کہ کون سی خدمات اس میں شامل نہیں۔
میرے 360° طریقۂ نگہداشت میں شواہد پر مبنی علاج کے ساتھ غذا، نیند، روزمرہ حرکت اور ذہنی سکون شامل ہیں۔ ضرورت کے مطابق غذائی مشورہ اور موزوں ہلکی یوگا مددگار ہو سکتے ہیں، لیکن یہ IVF کا متبادل نہیں۔ تمباکو سے پرہیز اور موجودہ بیماریوں کو قابو میں رکھنا اہم ہے؛ سپلیمنٹ خود سے شروع نہ کریں۔
۲۔ انجیکشن اور نگرانی: انڈوں کی تیاری کیسے ہوتی ہے؟
علاج شروع کرنے سے پہلے عموماً ماہواری کے آس پاس ابتدائی الٹراساؤنڈ ہوتا ہے۔ پھر انڈہ دانی میں ایک سے زیادہ انڈے تیار کرنے کے لیے ہارمون انجیکشن دیے جاتے ہیں۔ انجیکشن اکثر تقریباً دس سے چودہ دن چلتے ہیں، مگر مدت اور دوا کا انتخاب مختلف ہو سکتا ہے۔ کسی دوسری مریضہ کی پرچی آپ کے لیے مناسب نہیں ہوتی۔
اس دوران الٹراساؤنڈ اور کبھی خون کے ٹیسٹ سے فولیکلز کی نشوونما دیکھی جاتی ہے۔ فولیکل انڈہ دانی کی سیال بھری تھیلی ہے جس میں انڈہ ہو سکتا ہے۔ اسکین میں نظر آنے والا ہر فولیکل لازماً پختہ انڈہ نہیں دیتا۔ نتائج کے مطابق دوا بدل سکتی ہے، اس لیے نگرانی کی ملاقاتیں اہم ہیں۔
انڈے مناسب مرحلے پر پہنچیں تو آخری پختگی کے لیے ٹرگر انجیکشن دیا جاتا ہے۔ اس کا وقت بہت اہم ہے؛ وقت چھوٹ جائے یا غلطی ہو تو فوراً کلینک سے رابطہ کریں۔ پیٹ میں ہلکا بھاری پن ہو سکتا ہے، مگر شدید درد، تیزی سے سوجن، سانس پھولنا یا پیشاب کم ہونا فوری طبی جانچ کا تقاضا کرتا ہے۔
یہ علامات کبھی OHSS، یعنی دواؤں سے انڈہ دانی کے حد سے زیادہ ردِعمل، کی نشاندہی کرتی ہیں۔ PCOS میں اس خطرے کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ حفاظت کے لیے دوائیں بدلی جا سکتی ہیں یا تمام مناسب ایمبریوز فریز کرکے ٹرانسفر مؤخر کیا جا سکتا ہے۔ یہ فیصلہ علاج ناکام ہونے کا مطلب نہیں۔
۳۔ انڈے نکالنے سے ایمبریو ٹرانسفر تک
ٹرگر کے تقریباً چونتیس سے چھتیس گھنٹے بعد انڈے نکالنے کا پروسیجر ہوتا ہے۔ عموماً الٹراساؤنڈ کی رہنمائی میں اندام نہانی کے راستے باریک سوئی استعمال ہوتی ہے، پیٹ پر چیرا نہیں لگتا۔ سکون یا بے ہوشی کی دوا دی جاتی ہے۔ خالی پیٹ آنے اور گھر واپسی کی ہدایات پہلے ملتی ہیں؛ اس دن خود گاڑی نہ چلائیں۔
عموماً اسی دن سپرم کا نمونہ لیا جاتا ہے، یا پہلے سے محفوظ نمونہ استعمال ہوتا ہے۔ لیبارٹری میں انڈوں اور سپرم کو ملایا جاتا ہے۔ بعض حالات میں ICSI، یعنی ایک سپرم کو انڈے کے اندر داخل کرنے کی تکنیک، مناسب ہوتی ہے۔ یہ ہر جوڑے کے لیے لازمی نہیں۔
اگلے دنوں میں لیبارٹری ایمبریوز کی نشوونما دیکھتی ہے۔ ہر حاصل شدہ انڈہ پختہ نہیں ہوتا، ہر پختہ انڈہ بارآور نہیں ہوتا، اور ہر ایمبریو آگے نہیں بڑھتا۔ تعداد کم ہوتے دیکھنا مشکل لگ سکتا ہے، مگر یہ حیاتیاتی عمل کا حصہ ہے۔ ایمبریو کی ظاہری گریڈنگ بھی حمل یا کروموسوم کی صحت کی ضمانت نہیں۔
ٹرانسفر اسی سائیکل میں یا ایمبریو فریز کرنے کے بعد اگلے مناسب سائیکل میں ہو سکتا ہے۔ رحم کی تہہ، ہارمونز اور آپ کی صحت کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے۔ باریک نلکی سے ایمبریو رحم میں رکھا جاتا ہے؛ عموماً بے ہوشی ضروری نہیں ہوتی۔ موزوں صورتوں میں ایک ایمبریو منتقل کرنا جڑواں حمل کے خطرات گھٹاتا ہے۔
۴۔ ٹرانسفر کے بعد: عام غلط فہمیاں اور حقیقت
غلط فہمی: مکمل بستر پر رہنے سے ایمبریو چپک جاتا ہے۔ حقیقت: عموماً سخت بیڈ ریسٹ ضروری نہیں۔ چلنے، کھانسنے یا بیت الخلا جانے سے ایمبریو باہر نہیں گرتا۔ ہلکی روزمرہ سرگرمیاں جاری رہ سکتی ہیں؛ سخت ورزش، وزن اٹھانے اور ازدواجی تعلق کے بارے میں اپنی طبی ٹیم کی ہدایت لیں۔
غلط فہمی: خاص پھل یا گرم ٹھنڈی غذا حمل پکا کرتی ہے۔ حقیقت: متوازن غذا مفید ہے، مگر کوئی خوراک ایمبریو کے ٹھہرنے کی ضمانت نہیں۔ گھر والوں کا تعاون آرام اور عملی مدد کی صورت میں ہونا چاہیے، خوراک پر پابندیوں یا الزام تراشی کی صورت میں نہیں۔ ذہنی دباؤ محسوس کرنا علاج کی ناکامی کا ثبوت نہیں۔
غلط فہمی: علامات نہ ہوں تو علاج ناکام ہے۔ حقیقت: چھاتی میں کھنچاؤ، معمولی دھبے یا کوئی علامت نہ ہونا نتیجہ نہیں بتاتا۔ تجویز کردہ پروجیسٹرون اور دوسری دوائیں خود سے بند نہ کریں۔ pregnancy test عموماً ٹرانسفر کے تقریباً نو سے چودہ دن بعد، کلینک کی دی ہوئی تاریخ پر ہوتا ہے؛ جلد ٹیسٹ گمراہ کر سکتا ہے۔
۵۔ اہم باتیں: نتیجہ اور اگلا قدم
خون کا beta-hCG ٹیسٹ مثبت آئے تو ضرورت کے مطابق دوبارہ جانچ اور پھر الٹراساؤنڈ سے حمل کی جگہ اور نشوونما دیکھی جاتی ہے۔ مثبت ٹیسٹ اکیلا پورا اطمینان نہیں دیتا۔ شدید یک طرفہ درد، بے ہوشی یا زیادہ خون آنے پر فوری مدد لیں۔ منفی نتیجے پر جائزہ لیا جاتا ہے؛ یہ آپ کی غلطی نہیں۔
Want a personalised plan based on your reports?
Book an online consultation with Dr. Sana, or see her at Apollo Fertility, Kondapur (Mon, Tue, Wed, Thu & Sat, 1:00 PM – 6:00 PM). No referral required.
References & clinical guidelines
- Indian Council of Medical Research — National ART Guidelines and the ART (Regulation) Act, 2021
- ESHRE — European Society of Human Reproduction and Embryology, clinical practice guidelines
- NICE CG156 — Fertility problems: assessment and treatment
- Royal College of Obstetricians and Gynaecologists — patient information and guidelines


