Online consultations available
← All Articles
Wellness

غذائیت اور fertility: کھانا، ورزش اور طرزِ زندگی کی آسان رہنمائی

fertility کے لیے کوئی جادوئی خوراک نہیں، مگر روزمرہ کی بہتر عادتیں تولیدی صحت کو سہارا دے سکتی ہیں۔ جانیے کون سی تبدیلیاں مفید ہیں اور کب طبی جانچ ضروری ہے۔

Medically reviewed by Dr. Munawwer Sana, MRCOG, FACOG — last reviewed 26 September 2026
By · MBBS, MRCOG (UK), FACOG, FRM, MSc · Fertility & Reproductive Medicine, Hyderabad
Published 26 September 2026 · Last updated · 5 min read
Editorial photograph illustrating wellness care: غذائیت اور fertility: کھانا، ورزش اور طرزِ زندگی کی آسان رہنمائی

غذائیت اور fertility کا تعلق سمجھنے کے لیے اکثر پہلا سوال یہی ہوتا ہے: «ڈاکٹر، کیا کھاؤں کہ حمل ٹھہر جائے؟» کھجور، انار، گھی یا خشک میووں کے مشورے گھر میں فوراً مل جاتے ہیں۔ میں ڈاکٹر منور ثنا، Apollo Fertility، کونڈاپور، حیدرآباد میں fertility اور menopause کی ماہر ہوں۔ میری کوشش ہے کہ آپ کھانے کو صحت کا سہارا سمجھیں، حمل کی ضمانت یا اپنے آپ کو قصوروار ٹھہرانے کی وجہ نہیں۔

fertility یعنی حمل ٹھہرنے کی صلاحیت پر عمر، بیضہ بننے، نالیوں کی صحت، سپرم اور دوسری طبی کیفیتوں کا اثر پڑتا ہے۔ بہتر غذا، ورزش اور نیند بعض قابلِ اصلاح عوامل میں مدد دے سکتی ہیں، لیکن بند نالیوں یا عمر سے متعلق تبدیلیوں کا علاج صرف طرزِ زندگی سے نہیں ہوتا۔

1. حمل کی تیاری میں روزمرہ کی پلیٹ کیسی ہو؟

میں کسی ایک «fertility food» کے بجائے پورے دن کے کھانے کو دیکھتی ہوں۔ زیادہ تر کھانوں میں سبزی، پروٹین اور مناسب مقدار میں روٹی، چاول یا دوسرے اناج شامل رکھیں۔ دال، چنا، راجما، انڈا، مچھلی، مرغی، دہی اور پنیر اپنی پسند اور ضرورت کے مطابق پروٹین کے ذرائع بن سکتے ہیں۔

حیدرآباد کے گھر میں چاول یا روٹی مکمل بند کرنا ضروری نہیں۔ مثال کے طور پر دال چاول کے ساتھ سبزی اور دہی، یا روٹی کے ساتھ انڈا اور سبزی متوازن کھانا بن سکتا ہے۔ بریانی بھی ہمیشہ ممنوع نہیں؛ مقدار، کتنی بار کھائی جاتی ہے، اور باقی دن کی غذا زیادہ اہم ہیں۔

ثابت پھل عموماً جوس سے بہتر انتخاب ہے، کیونکہ اس میں فائبر ہوتا ہے۔ موسمی پھل، ہری سبزیاں، مونگ پھلی اور دوسرے میوے مفید ہو سکتے ہیں؛ مہنگے بیر یا درآمد شدہ بیج ضروری نہیں۔ میٹھے مشروبات، بار بار بیکری کی چیزیں اور بہت زیادہ تلی ہوئی غذا کم کرنے سے آغاز کریں۔

خون کی کمی، B12 یا vitamin D کی کمی ہو تو ضرورت کے مطابق جانچ اور علاج کیا جاتا ہے۔ حمل کی تیاری میں folic acid عموماً تجویز کیا جاتا ہے؛ مناسب مقدار اپنی ڈاکٹر سے طے کریں۔ خود سے زیادہ مقدار میں وٹامن، ہربل سفوف یا «انڈوں کی کوالٹی» والے سپلیمنٹس لینا محفوظ نہیں۔

پانی باقاعدگی سے پئیں اور چائے، کافی یا energy drinks کی مجموعی کیفین پر نظر رکھیں۔ حمل کی کوشش کے دوران الکحل سے پرہیز محفوظ انتخاب ہے۔ اگر ذیابیطس، تھائیرائڈ یا کوئی مستقل بیماری ہے تو غذا اور دواؤں کا منصوبہ اس کے مطابق ہونا چاہیے؛ دوا خود سے بند نہ کریں۔

2. PCOS، وزن اور ورزش: سختی نہیں، تسلسل

PCOS میں بیضہ باقاعدگی سے خارج نہ ہونے کی وجہ سے ماہواری بے ترتیب ہو سکتی ہے۔ بعض لوگوں میں انسولین، یعنی خون کی شکر سنبھالنے والے ہارمون، کا اثر بھی کم ہوتا ہے۔ ایسے میں متوازن غذا اور حرکت مددگار ہیں، لیکن ہر PCOS والی خاتون کا وزن زیادہ نہیں ہوتا اور سب کا علاج ایک جیسا نہیں۔

اگر وزن زیادہ ہو تو موزوں، بتدریج تبدیلی بعض خواتین میں ماہواری اور بیضہ خارج ہونے کو بہتر بنا سکتی ہے۔ بہت کم وزن یا ناکافی خوراک بھی سائیکل متاثر کر سکتی ہے۔ میرا مقصد صرف ترازو کا نمبر نہیں، بلکہ غذائیت، توانائی اور مجموعی صحت بہتر کرنا ہے۔

کھانا چھوڑنا، لمبے فاقے یا تیزی سے وزن گھٹانے والی ڈائٹ حمل کی تیاری کا لازمی حصہ نہیں۔ خصوصاً جب عمر یا دوسری طبی وجوہ سے وقت اہم ہو، صرف وزن کم ہونے کے انتظار میں fertility کی جانچ مؤخر نہیں کرنی چاہیے۔ دونوں کام ساتھ چل سکتے ہیں۔

ورزش کی ابتدا تیز چہل قدمی، سیڑھیوں یا گھر میں ہلکی جسمانی سرگرمی سے کیجیے۔ دیر تک بیٹھنے کے درمیان اٹھنا بھی مفید ہے۔ رفتہ رفتہ پٹھوں کو مضبوط کرنے والی ورزش شامل کی جا سکتی ہے۔ ایسی روٹین چنیں جو دفتر، بچوں اور گھر کی ذمہ داریوں کے ساتھ نبھ سکے۔

بہت سخت ورزش کے ساتھ کم کھانا ماہواری بگاڑ سکتا ہے۔ IVF کے دوران بیضہ دانیاں بڑی ہو سکتی ہیں، اس لیے دوڑنے، اچھلنے یا جسم کو بہت موڑنے والی ورزش کے بارے میں اپنی ٹیم سے پوچھیں۔ یوگا بھی اپنی صحت اور علاج کے مرحلے کے مطابق کریں۔

3. نیند، ذہنی سکون اور شریکِ حیات کی صحت

fertility صرف عورت کی ذمہ داری نہیں۔ مردوں کے لیے بھی تمباکو، سگریٹ، ویپنگ اور نشہ چھوڑنا، مناسب نیند اور متوازن غذا اہم ہیں۔ جم میں استعمال ہونے والے anabolic steroids اور خود سے لیا گیا testosterone سپرم کی پیداوار دبا سکتے ہیں۔ ایسی چیزوں کا استعمال ڈاکٹر کو ضرور بتائیں۔

رات کی شفٹ، دیر تک موبائل دیکھنا اور بے ترتیب نیند روزمرہ کی صحت متاثر کر سکتے ہیں۔ جہاں ممکن ہو سونے اور جاگنے کا وقت باقاعدہ کریں۔ گھر کے کام تقسیم کرنا اور بار بار «خوش خبری کب؟» پوچھنے سے گریز بھی خاندان کی حقیقی مدد ہے۔

ذہنی دباؤ کم کرنا سکون اور علاج سنبھالنے کے لیے مفید ہے، مگر «بس فکر چھوڑ دو، حمل ٹھہر جائے گا» درست مشورہ نہیں۔ سانس کی مشقیں، نرم یوگا یا counselling مدد دے سکتے ہیں۔ میرے 360° طریقۂ نگہداشت میں سائنسی شواہد پر مبنی علاج کے ساتھ غذائیت، موزوں یوگا اور طرزِ زندگی کی رہنمائی شامل ہے؛ یہ طبی علاج کا متبادل نہیں۔

4. عام غلط فہمیاں اور حقیقت

غلط فہمی: انار، انناس یا کوئی خاص بیج کھانے سے حمل لازماً ٹھہرتا ہے۔ حقیقت: یہ متوازن غذا کا حصہ ہو سکتے ہیں، لیکن کسی ایک خوراک سے حمل کی ضمانت کا معتبر ثبوت نہیں۔ مخصوص دنوں میں مخصوص بیج کھانے، یعنی seed cycling، کو ثابت شدہ fertility علاج نہ سمجھیں۔

غلط فہمی: AMH کم ہو تو خوراک سے انڈوں کا ذخیرہ واپس بڑھایا جا سکتا ہے۔ حقیقت: AMH بیضہ دانی کے ذخیرے کا اندازہ دینے والا ایک ٹیسٹ ہے، اکیلا مکمل فیصلہ نہیں۔ کوئی ثابت شدہ غذا ختم ہوتے انڈوں کو واپس نہیں بناتی؛ عمر اور دوسری جانچ بھی اہم ہیں۔

غلط فہمی: قدرتی یا دیسی سپلیمنٹ ہمیشہ محفوظ ہے۔ حقیقت: اجزا غیر واضح ہو سکتے ہیں اور دواؤں سے ردعمل ہو سکتا ہے۔ غلط فہمی: بہترین ڈائٹ کے بعد IVF کامیاب ہونا چاہیے۔ حقیقت: اچھا طرزِ زندگی صحت کو سہارا دیتا ہے، مگر علاج کے نتیجے کی ضمانت نہیں دیتا۔

5. اہم باتیں اور ڈاکٹر سے کب ملیں

تین آسان قدم یاد رکھیں: کھانے میں تنوع، روزانہ مناسب حرکت، اور باقاعدہ نیند۔ ایک ساتھ سب بدلنے کے بجائے قابلِ عمل تبدیلی چنیں۔ شریکِ حیات کو شامل کریں اور اپنی ادویات، ماہواری اور پرانی رپورٹس کا ریکارڈ رکھیں۔

عمر 35 سال سے کم ہو تو عموماً ایک سال، اور 35 یا زیادہ ہو تو چھ ماہ کی باقاعدہ غیر محفوظ ازدواجی قربت کے باوجود حمل نہ ٹھہرنے پر جانچ کرائیں۔ 40 سے زیادہ عمر، بے ترتیب ماہواری، شدید درد یا پہلے سے معلوم مسئلے میں جلد مشورہ لیں۔

میں Apollo Fertility، کونڈاپور، حیدرآباد میں پیر، منگل، بدھ، جمعرات اور ہفتہ، دوپہر 1 سے شام 6 بجے تک دستیاب ہوں۔ آن لائن ویڈیو مشورہ بھی لیا جا سکتا ہے۔ اپنی ضرورت کے مطابق غذا، طرزِ زندگی اور طبی جانچ کا منصوبہ بنانے کے لیے کلینک یا آن لائن مشورہ بک کریں؛ اپنی اپائنٹمنٹ بک کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

Talk to Dr. Sana

Want a personalised plan based on your reports?

Book an online consultation with Dr. Sana, or see her at Apollo Fertility, Kondapur (Mon, Tue, Wed, Thu & Sat, 1:00 PM – 6:00 PM). No referral required.

References & clinical guidelines

  1. Indian Council of Medical Research — National ART Guidelines and the ART (Regulation) Act, 2021
  2. ESHRE — European Society of Human Reproduction and Embryology, clinical practice guidelines
  3. NICE CG156 — Fertility problems: assessment and treatment
  4. Royal College of Obstetricians and Gynaecologists — patient information and guidelines
Book a Consultation
Book a consultation