Online consultations available
← All Articles
Wellness

بار بار حمل ضائع ہونا: وجوہات اور جدید علاج

حمل کا بار بار ضائع ہونا آپ کی غلطی نہیں، اور ہر بار اس کی وجہ ایک جیسی نہیں ہوتی۔ میں بتاتی ہوں کہ درست جانچ، مناسب علاج اور گھر والوں کا تعاون آئندہ نگہداشت میں کیسے مدد دیتے ہیں۔

Medically reviewed by Dr. Munawwer Sana, MRCOG, FACOG — last reviewed 19 September 2026
By · MBBS, MRCOG (UK), FACOG, FRM, MSc · Fertility & Reproductive Medicine, Hyderabad
Published 19 September 2026 · Last updated · 5 min read
Editorial photograph illustrating wellness care: بار بار حمل ضائع ہونا: وجوہات اور جدید علاج

بار بار حمل ضائع ہونا صرف ایک طبی مسئلہ نہیں؛ اس کے ساتھ امید ٹوٹنے، اگلی بار کے خوف اور گھر والوں کے سوالوں کا بوجھ بھی آتا ہے۔ شاید آپ سوچ رہی ہوں: کیا مجھ سے کوئی غلطی ہوئی؟ میں ڈاکٹر منور ثنا، زرخیزی اور سنِ یاس کی ماہر، سب سے پہلے یہی کہنا چاہتی ہوں کہ عموماً ایسا آپ کے کسی معمول کے کام کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ آپ کو الزام نہیں، ہمدردی، واضح معلومات اور منظم نگہداشت کی ضرورت ہے۔

کب جانچ کروانی چاہیے، اور کیا ہر نقصان ایک جیسا ہے؟

دو یا اس سے زیادہ حمل ضائع ہونے کے بعد ڈاکٹر سے تفصیلی جائزے پر بات کرنا مناسب ہے، اگرچہ مختلف طبی رہنما اصولوں میں تعریف کچھ مختلف ہوسکتی ہے۔ جانچ شروع کرنے کے لیے ہر خاتون کو لازماً تیسری بار نقصان کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ عمر، سابقہ حمل، نقصان کس ہفتے ہوا اور دوسری بیماریوں کو دیکھ کر میں اگلا قدم طے کرتی ہوں۔

ابتدائی ہفتوں میں حمل ضائع ہونا، نسبتاً آگے کے حمل میں نقصان، اور بچہ دانی کے باہر حمل ٹھہرنا الگ صورتیں ہیں۔ ان کی جانچ اور علاج بھی مختلف ہوسکتے ہیں۔ پچھلے الٹراساؤنڈ، خون کی رپورٹس، ہسپتال کی فائل اور اگر دستیاب ہو تو حمل کے ٹشو کی رپورٹ ساتھ لائیں۔ ہر رپورٹ ضروری نہیں کہ وجہ بتادے، مگر پوری تاریخ سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

اگر اس وقت بہت زیادہ خون بہہ رہا ہو، شدید یا ایک طرف پیٹ درد ہو، کندھے میں درد، چکر، بے ہوشی یا بخار ہو تو معمول کی اپائنٹمنٹ کا انتظار نہ کریں۔ فوری ہسپتال جائیں۔ خاص طور پر درد کے ساتھ چکر یا بے ہوشی بچہ دانی کے باہر حمل یا اندرونی خون بہنے کی علامت ہوسکتی ہے۔

ممکنہ وجوہات اور واقعی مفید ٹیسٹ

ابتدائی حمل ضائع ہونے کی ایک عام وجہ جنین کے کروموسوم میں اتفاقی خرابی ہے۔ کروموسوم وہ ساختیں ہیں جن میں جینیاتی معلومات ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ والدین نے کچھ غلط کیا۔ عمر بڑھنے کے ساتھ ایسی خرابی کا امکان بڑھتا ہے۔ بعض جوڑوں میں کسی ایک کے کروموسوم کی ترتیب مختلف ہوتی ہے؛ منتخب حالات میں جینیاتی جانچ اور مشاورت مفید رہتی ہے۔

بچہ دانی کی بناوٹ میں فرق، اندرونی پردہ یا اندر کی جگہ کو متاثر کرنے والی بعض رسولیاں بھی متعلق ہوسکتی ہیں۔ میں ضرورت کے مطابق الٹراساؤنڈ، کبھی تین جہتی الٹراساؤنڈ یا مزید معائنے تجویز کرتی ہوں۔ ہر فائبرائڈ، یعنی بچہ دانی کی رسولی، حمل ضائع نہیں کرتی اور ہر رسولی کا آپریشن ضروری نہیں ہوتا۔ اس کی جگہ اور اثر دیکھنا اہم ہے۔

اینٹی فاسفولیپڈ سنڈروم مدافعتی نظام کی ایک کیفیت ہے جو خون جمنے اور حمل کی پیچیدگیوں سے وابستہ ہوسکتی ہے۔ اس کے مخصوص خون کے ٹیسٹ ہوتے ہیں، اور تشخیص کے لیے مقررہ وقفے سے دوبارہ جانچ درکار ہوسکتی ہے۔ تھائرائڈ کی خرابی اور بے قابو ذیابیطس کا جائزہ بھی اہم ہے۔ PCOS ہو تو ماہواری، وزن اور شوگر کی کیفیت دیکھتی ہوں؛ صرف PCOS کو ہر نقصان کی وجہ نہیں مانتی۔

AMH بنیادی طور پر بیضہ دانی میں باقی انڈوں کے ذخیرے کا اندازہ دینے میں مدد کرتا ہے؛ یہ اکیلا بار بار حمل ضائع ہونے کی وجہ یا انڈوں کا معیار نہیں بتاتا۔ ہر مریضہ کو انفیکشن کے وسیع پینل، موروثی خون جمنے کے تمام ٹیسٹ یا مہنگے مدافعتی ٹیسٹ درکار نہیں ہوتے۔ کافی جانچ کے باوجود کبھی واضح وجہ نہیں ملتی؛ اس کا مطلب یہ نہیں کہ نگہداشت کے راستے ختم ہوگئے۔

جدید علاج: وجہ کے مطابق، صرف زیادہ دوائیں نہیں

جدید علاج کا مطلب سب سے مہنگا طریقہ نہیں بلکہ وہ طریقہ ہے جس کے فائدے کا معتبر ثبوت ہو۔ اینٹی فاسفولیپڈ سنڈروم کی تصدیق پر منتخب مریضات کو ڈاکٹر کی نگرانی میں اسپرین اور ہیپرین فائدہ دے سکتی ہیں۔ بغیر تشخیص انہیں خود شروع کرنا درست نہیں۔ تھائرائڈ یا شوگر کی خرابی ہو تو اسے قابو کرنا، اور مخصوص ساختی مسئلے میں مناسب علاج پر غور کرنا اہم ہے۔

پروجیسٹرون ہر خاتون کے لیے لازمی دوا نہیں۔ سابقہ اسقاط کے ساتھ موجودہ ابتدائی حمل میں خون آنے کی بعض صورتوں میں، الٹراساؤنڈ اور طبی جائزے کے بعد، یہ تجویز کیا جاسکتا ہے۔ بعض مخصوص سابقہ حملوں کی تاریخ میں بچہ دانی کے منہ کی کمزوری کا جائزہ اور ٹانکے کی ضرورت الگ سے دیکھی جاتی ہے۔ علاج ہمیشہ نقصان کے وقت اور ممکنہ وجہ سے جوڑنا چاہیے۔

IVF ہر بار حمل ضائع ہونے کا خودکار حل نہیں۔ اگر ساتھ بانجھ پن ہو یا مخصوص جینیاتی مسئلہ سامنے آئے تو IVF اور مناسب جنینی جینیاتی جانچ پر بات ہوسکتی ہے۔ ہر جوڑے میں اس جانچ سے بہتر نتیجہ ثابت نہیں، اور یہ حمل برقرار رہنے کی ضمانت نہیں دیتی۔ غیر ثابت شدہ مدافعتی ڈرپس یا سٹیرائڈز کو بھی معمول کا علاج نہیں سمجھنا چاہیے۔

میرے 360° طریقۂ نگہداشت میں شواہد پر مبنی طب کے ساتھ غذائیت، مناسب ورزش، یوگا، نیند اور جذباتی سہارا شامل ہیں۔ گھر کی دال، سبزی، پھل اور مناسب پروٹین متوازن خوراک کا حصہ بن سکتے ہیں۔ فولک ایسڈ اور دوسرے سپلیمنٹ ضرورت کے مطابق طے ہوتے ہیں۔ یوگا سکون دے سکتا ہے، مگر اسقاط روکنے کا علاج نہیں؛ حمل میں سرگرمی اپنی طبی حالت کے مطابق رکھیں۔

غلط فہمیاں اور حقائق

غلط فہمی: سیڑھیاں چڑھنے، معمول کے گھریلو کام یا کسی ایک کھانے سے حمل ضائع ہوگیا۔ حقیقت: غیر پیچیدہ حمل میں معمول کی سرگرمیاں عموماً اسقاط کا سبب نہیں بنتیں۔ کسی خاص طبی مسئلے میں ہدایات مختلف ہوسکتی ہیں، مگر بلاوجہ مکمل بستر کا آرام تجویز کرنا یا خاتون کو قصوروار ٹھہرانا درست نہیں۔

غلط فہمی: یہ صرف عورت کی ذمہ داری ہے، یا پریشانی اور ایمان کی کمی وجہ ہیں۔ حقیقت: تشخیص میں دونوں شریکِ حیات کی تاریخ اہم ہوسکتی ہے۔ دعا، عبادت اور خاندان کا ساتھ تسلی دے سکتے ہیں؛ طبی مدد لینا ان کے خلاف نہیں۔ ساس سسر اور دوسرے عزیز خوراک یا کام پر تنقید کے بجائے سنیں، رازداری رکھیں اور ساتھ جانے کی پیشکش کریں۔

اہم باتیں اور اگلا قدم

یاد رکھیں: دو نقصانات کے بعد جائزے پر بات کریں، پرانی رپورٹس لائیں، اور خود سے ہارمون یا خون پتلا کرنے والی دوا نہ لیں۔ آئندہ حمل کا منصوبہ جسمانی بحالی، نتائج اور جذباتی آمادگی کے مطابق بنائیں۔ مثبت حمل ٹیسٹ کے بعد جلد رابطہ اور مناسب وقت پر الٹراساؤنڈ مددگار ہیں، لیکن کوئی علاج یقینی کامیابی کا وعدہ نہیں کرسکتا۔

میں اپولو فرٹیلٹی، بنجارہ ہلز، حیدرآباد میں پیر، منگل، بدھ، جمعرات اور ہفتہ، دوپہر 1 سے شام 6 بجے تک کلینک میں، اور آن لائن ویڈیو مشاورت کے ذریعے دستیاب ہوں۔ اپنی رپورٹس اور سوالات کے ساتھ مشورہ بک کریں تاکہ ہم آپ کے لیے مناسب اگلا قدم طے کرسکیں۔ اپنی اپائنٹمنٹ بک کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

Talk to Dr. Sana

Want a personalised plan based on your reports?

Book an online consultation with Dr. Sana, or see her at Apollo Fertility, Kondapur (Mon, Tue, Wed, Thu & Sat, 1:00 PM – 6:00 PM). No referral required.

References & clinical guidelines

  1. Indian Council of Medical Research — National ART Guidelines and the ART (Regulation) Act, 2021
  2. ESHRE — European Society of Human Reproduction and Embryology, clinical practice guidelines
  3. NICE CG156 — Fertility problems: assessment and treatment
  4. Royal College of Obstetricians and Gynaecologists — patient information and guidelines
Book a Consultation
Book a consultation