مردانہ بانجھ پن کا ذکر آتے ہی بہت سے گھروں میں خاموشی چھا جاتی ہے۔ کبھی بہو کے ٹیسٹ ہوتے رہتے ہیں، مگر شوہر کی جانچ مؤخر ہوتی ہے۔ میری پہلی بات ہے: حمل ٹھہرنے میں دشواری میاں بیوی کا مشترکہ طبی مسئلہ ہے، کسی ایک کی غلطی، کمزوری یا کردار کا سوال نہیں۔
میں ڈاکٹر منور ثنا، Apollo Fertility، بنجارہ ہلز، حیدرآباد میں فرٹیلٹی اور مینوپاز کی ماہر ہوں۔ میرا مقصد جوڑے کو الزام سے نکال کر واضح طبی راستہ دکھانا ہے۔ مردانہ بانجھ پن کا مطلب ہمیشہ اولاد ناممکن ہونا نہیں؛ امکانات وجہ اور دونوں ساتھیوں کی صحت پر منحصر ہوتے ہیں۔
مردانہ بانجھ پن کیوں ہوتا ہے؟
حمل کے لیے سپرم، یعنی مرد کے تولیدی خلیے، مناسب تعداد میں بننے، حرکت کرنے اور عورت کے انڈے تک پہنچنے چاہییں۔ ان کی تعداد، حرکت یا ساخت میں مسئلہ ہو سکتا ہے۔ کبھی سپرم بنتے ہیں مگر راستے کی رکاوٹ سے منی میں نہیں پہنچتے، یا انزال میں دشواری ہوتی ہے۔
وجوہات میں خصیوں کے گرد رگوں کا پھولنا، جسے ویریکوسیل کہتے ہیں، ہارمون کی خرابی، بعض انفیکشن، پیدائشی مسائل اور جینیاتی تبدیلیاں شامل ہیں۔ بچپن میں خصیہ اپنی جگہ نہ اترنا، خصیوں کی چوٹ یا آپریشن، اور کینسر کے بعض علاج بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔ کبھی وجہ واضح نہیں ملتی۔
تمباکو، گٹکا، سگریٹ، بہت زیادہ شراب، موٹاپا اور کچھ کاموں میں کیمیائی مادوں یا مسلسل زیادہ گرمی سے واسطہ خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔ جم میں جسم بنانے کے لیے لیے جانے والے اسٹیرائڈز اور باہر سے لیا گیا ٹیسٹوسٹیرون سپرم بننا دبا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر کو اپنی تمام دوائیں بتائیں۔
جنسی خواہش اور ازدواجی تعلق معمول کے مطابق ہونے کے باوجود سپرم کا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح عضو میں تناؤ کی دشواری لازماً سپرم کی خرابی نہیں۔ میں ان دونوں باتوں کو الگ سمجھاتی ہوں، کیونکہ بازار میں دونوں کے لیے ایک ہی نام سے نامناسب علاج بیچے جاتے ہیں۔
جانچ کب اور کون سے ٹیسٹ ضروری ہیں؟
اگر بیوی کی عمر 35 سال سے کم ہو اور ایک سال تک باقاعدہ، بغیر مانع حمل تعلق کے باوجود حمل نہ ٹھہرے تو دونوں کی جانچ کروائیں۔ 35 سال یا زیادہ عمر میں چھ ماہ بعد مشورہ مناسب ہے۔ معلوم تولیدی مسئلے یا زیادہ عمر کی صورت میں پہلے رابطہ کریں۔
ملاقات میں میں حمل کی کوشش کی مدت، سابقہ حمل، بیماریوں، آپریشن، بخار، دواؤں اور جنسی صحت کے بارے میں پوچھتی ہوں۔ ضرورت کے مطابق مردانہ تولیدی صحت کے ماہر سے معائنہ کروایا جاتا ہے۔ خصیے میں گلٹی یا سوجن نظر انداز نہ کریں؛ اچانک شدید درد ہو تو فوری طبی مدد لیں۔
ابتدائی اہم جانچ منی کا تجزیہ ہے، جس میں سپرم کی تعداد، حرکت، ساخت اور منی کی مقدار دیکھی جاتی ہے۔ نمونہ دینے سے پہلے لیبارٹری کی ہدایات سمجھیں؛ عموماً دو سے سات دن انزال سے پرہیز کہا جاتا ہے۔ نمونہ مکمل جمع نہ ہو تو عملے کو بتائیں۔
ایک غیر معمولی رپورٹ آخری فیصلہ نہیں ہوتی۔ حالیہ بخار، بیماری یا نمونہ جمع کرنے میں مشکل نتیجے کو بدل سکتی ہے، اس لیے دوبارہ جانچ درکار ہو سکتی ہے۔ مناسب وقفہ ڈاکٹر طے کرتا ہے۔ رپورٹ کے کسی ایک خانے سے قدرتی حمل کا امکان قطعی ثابت یا رد نہیں ہوتا۔
ہر شخص کو ہر ٹیسٹ نہیں چاہیے۔ ہارمون کے خون کے ٹیسٹ، الٹراساؤنڈ یا جینیاتی جانچ مخصوص نتائج کے مطابق منتخب کیے جاتے ہیں۔ سپرم بالکل نہ ملنے پر تصدیق اور مزید تشخیص ضروری ہے۔ عورت کی جانچ ساتھ چلتی ہے؛ PCOS یا AMH کی رپورٹ شوہر کی جانچ کا متبادل نہیں۔
علاج: وجہ کے مطابق، صرف طاقت کی دوا نہیں
علاج کا انتخاب وجہ، مسئلے کی شدت، بیوی کی عمر اور دونوں کی ترجیحات دیکھ کر ہوتا ہے۔ ثابت شدہ انفیکشن یا مخصوص ہارمون کی خرابی کا علاج مددگار ہو سکتا ہے۔ کچھ منتخب افراد میں ویریکوسیل یا راستے کی رکاوٹ کا آپریشن مناسب ہوتا ہے، مگر ہر رپورٹ پر نہیں۔
بعض جوڑوں میں IUI، یعنی تیار کردہ سپرم رحم میں ڈالنا، موزوں ہوتا ہے۔ زیادہ شدید مسئلے میں IVF کے ساتھ ICSI، یعنی ایک سپرم کو انڈے میں داخل کرنے کی تکنیک، زیر غور آ سکتی ہے۔ منتخب حالات میں خصیے سے سپرم حاصل کیے جاتے ہیں؛ کامیابی یا حمل کی ضمانت نہیں۔
میرے 360° طریقۂ نگہداشت میں سائنسی شواہد پر مبنی علاج کے ساتھ غذائیت، یوگا اور روزمرہ عادات شامل ہیں۔ دالیں، سبزیاں، پھل، سالم اناج اور ضرورت کے مطابق پروٹین متوازن غذا کا حصہ ہیں۔ یوگا تناؤ سنبھالنے میں مدد دے سکتا ہے، مگر رکاوٹ یا جینیاتی مسئلے کا علاج نہیں۔
تمباکو چھوڑنا، مناسب وزن، نیند اور باقاعدہ جسمانی سرگرمی مجموعی صحت کے لیے مفید ہیں۔ تبدیلیوں کا اثر جانچنے میں وقت لگتا ہے۔ شہد، خشک میوے، جڑی بوٹیاں یا مہنگے سپلیمنٹ سپرم بڑھانے کا ثابت شدہ نسخہ نہیں۔ کچھ چیزیں نقصان یا دواؤں سے ردعمل بھی کر سکتی ہیں؛ پہلے مشورہ لیں۔
اخراجات تشخیص، دوبارہ ٹیسٹ، دواؤں، آپریشن، سپرم حاصل کرنے کے طریقے اور معاون تولیدی علاج کی ضرورت کے مطابق بدلتے ہیں۔ اسی لیے ایک مقررہ قیمت بتانا درست نہیں۔ مشاورت کے بعد ذاتی علاج کے منصوبے کے مطابق تخمینہ دیا جاتا ہے، تاکہ ضروری مراحل اور ممکنہ اضافی خرچ سمجھ آئیں۔
غلط فہمیاں اور حقیقت
غلط فہمی: بچہ نہ ہو تو قصور عورت کا ہے۔ حقیقت: وجہ مرد، عورت، دونوں میں ہو سکتی ہے، یا جانچ کے باوجود واضح نہیں ملتی۔ ساس سسر اور گھر کے بزرگوں کا تعاون قیمتی ہے، مگر الزام نقصان دیتا ہے۔ طبی معلومات کس سے بانٹنی ہیں، یہ جوڑے کی مرضی ہے۔
غلط فہمی: منی گاڑھی ہو تو سپرم صحت مند ہیں، یا ماضی میں اولاد ہوئی ہو تو اب مرد کی جانچ ضروری نہیں۔ حقیقت: ظاہری شکل سپرم کی کیفیت نہیں بتاتی، اور تولیدی صحت بدل سکتی ہے۔ دعا اور علاج ساتھ چل سکتے ہیں؛ طبی مدد لینا ایمان کی کمی نہیں۔
اہم باتیں یاد رکھیں
دونوں ساتھیوں کی جانچ ساتھ شروع کریں، ایک رپورٹ سے نتیجہ نہ نکالیں، اور خود سے ٹیسٹوسٹیرون یا طاقت کی دوا نہ لیں۔ پرانی رپورٹس اور دواؤں کی فہرست ملاقات پر لائیں۔ میں آپ کی بات رازداری اور احترام سے سنتی ہوں تاکہ اگلا قدم معلومات کی بنیاد پر طے ہو۔
Want a personalised plan based on your reports?
Book an online consultation with Dr. Sana, or see her at Apollo Fertility, Kondapur (Mon, Tue, Wed, Thu & Sat, 1:00 PM – 6:00 PM). No referral required.
References & clinical guidelines
- Indian Council of Medical Research — National ART Guidelines and the ART (Regulation) Act, 2021
- ESHRE — European Society of Human Reproduction and Embryology, clinical practice guidelines
- NICE CG156 — Fertility problems: assessment and treatment
- Royal College of Obstetricians and Gynaecologists — patient information and guidelines


