Online consultations available
← Journal
Menopause

مینوپاز اور گھر کا کھانا: وزن سے آگے صحت کی بات

مینوپاز میں صحت کا پیمانہ صرف وزن نہیں۔ گھر کے مانوس کھانوں، مناسب پروٹین، کیلشیم، وٹامن ڈی اور محفوظ ورزش کے ذریعے ہڈیوں، پٹھوں اور روزمرہ توانائی پر توجہ دیں۔

Medically reviewed by Dr. Munawwer Sana, MRCOG, FACOG — last reviewed 27 September 2026
By · MBBS, MRCOG (UK), FACOG, FRM, MSc · Fertility & Reproductive Medicine, Hyderabad
Published 27 September 2026 · Last updated · 4 min read
Editorial photograph illustrating menopause care: مینوپاز اور گھر کا کھانا: وزن سے آگے صحت کی بات

صحت کو صرف ترازو سے نہ ناپیں

مینوپاز عموماً تب کہا جاتا ہے جب مسلسل بارہ ماہ ماہواری نہ آئے اور اس کی کوئی دوسری وجہ نہ ہو۔ اس سے پہلے کے عبوری برسوں میں ماہواری، نیند اور جسم میں گرمی کی لہروں میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ ہارمون کی تبدیلی کے ساتھ عمر، کم نیند، سرگرمی اور بعض دوائیں بھی جسمانی ساخت اور وزن پر اثر ڈال سکتی ہیں۔

کمر کے گرد چربی بڑھنا یا پرانے کپڑوں کا تنگ ہونا کردار کی کمزوری نہیں۔ وزن صحت کی ایک معلومات ہے، مکمل فیصلہ نہیں۔ بلڈ پریشر، خون میں شکر، ہڈیوں کی حالت، طاقت اور روزمرہ کام کرنے کی صلاحیت بھی اہم ہیں۔ وزن کم کرنے کی ضرورت ہو تو قابلِ عمل منصوبہ بنائیں؛ فاقے یا پورے غذائی گروہ چھوڑنے سے غذائی کمی ہو سکتی ہے۔

گھر کی تھالی میں توازن

چاول یا روٹی مکمل بند کرنا ضروری نہیں۔ تھالی میں سبزی، پروٹین والی غذا اور اناج کے لیے جگہ رکھیں۔ مقدار بھوک، سرگرمی، ذیابیطس اور دوسری طبی ضرورتوں کے مطابق ہو۔ جوار، باجرہ یا ثابت گندم تنوع لا سکتے ہیں، مگر کسی ایک اناج کو مینوپاز کا علاج سمجھنا درست نہیں۔

حیدرآباد کے گھر میں دال، چاول، ترکاری اور دہی ایک مانوس بنیاد بن سکتے ہیں۔ ناشتے میں اڈلی کے ساتھ مناسب مقدار میں سامبھر، یا بیسن کا چیلا اور دہی لیا جا سکتا ہے۔ صرف چائے اور بسکٹ پر صبح گزارنے کے بجائے ایسا ناشتہ چنیں جو کچھ پروٹین بھی دے۔ بریانی کھانے پر احساسِ جرم ضروری نہیں؛ مقدار اور ساتھ کی غذا پر توجہ دیں۔

پانی باقاعدگی سے پئیں، خصوصاً گرمی میں، البتہ دل یا گردوں کی بیماری میں سیال کی ہدایت الگ ہو سکتی ہے۔ اگر چائے، کافی یا مرچ سے گرمی کی لہریں یا نیند خراب محسوس ہوں تو اپنے تجربے کے مطابق تبدیلی کریں؛ ہر خاتون کو ایک ہی پرہیز درکار نہیں۔

پروٹین کو ہر بڑے کھانے میں جگہ دیں

پٹھوں کی حفاظت کے لیے مناسب پروٹین اور ان کا استعمال دونوں اہم ہیں۔ دال، چنا، راجما، لوبیا، سویا، دودھ، دہی اور پنیر ذرائع ہیں۔ انڈا، مچھلی یا کم چربی والا گوشت بھی انتخاب ہو سکتے ہیں۔ سبزی خور خواتین مختلف دالیں، پھلیاں اور دودھ کی مصنوعات یا موزوں متبادل شامل کر سکتی ہیں۔

صرف پتلی دال کا تھوڑا سا شوربہ کافی پروٹین نہیں دیتا؛ اصل دال یا پھلیوں کی مقدار بھی اہم ہے۔ دن میں پروٹین تقسیم کرنا عملی طریقہ ہے، مثلاً ناشتے میں دہی یا انڈا، دوپہر میں چنا اور رات میں دال یا مچھلی۔ مہنگے پاؤڈر لازمی نہیں۔ گردوں کی بیماری میں پروٹین بڑھانے سے پہلے مشورہ لیں۔

کیلشیم اور وٹامن ڈی: کھانا، جانچ اور ضرورت

مینوپاز کے بعد ہڈیوں کے گھلنے کی رفتار بڑھ سکتی ہے۔ دودھ، دہی اور پنیر کیلشیم فراہم کرتے ہیں۔ دودھ موافق نہ ہو تو دہی یا کیلشیم شامل کیا گیا، بغیر اضافی شکر والا متبادل دیکھا جا سکتا ہے؛ لیبل ضرور پڑھیں۔ راگی، تل اور کچھ سبز پتوں والی سبزیاں بھی حصہ ڈالتی ہیں، مگر جذب اور معمول کی مقدار مختلف ہوتی ہے۔

وٹامن ڈی کیلشیم کے جذب اور ہڈیوں کی صحت میں مدد دیتا ہے۔ دھوپ کی دستیابی کا مطلب لازماً کافی وٹامن ڈی نہیں؛ لباس، جلد، عمر اور باہر گزارا وقت اثرانداز ہوتے ہیں۔ سب کے لیے دھوپ کا ایک مقرر دورانیہ مناسب نہیں۔ غذا میں ذرائع محدود ہو سکتے ہیں؛ ضرورت کے مطابق ڈاکٹر جانچ یا سپلیمنٹ تجویز کر سکتے ہیں۔

کیلشیم یا وٹامن ڈی کی زیادہ مقدار خود سے نہ لیں۔ گردے کی پتھری، گردوں کی بیماری یا دوسری دواؤں کی صورت میں احتیاط ضروری ہے۔ کم چوٹ سے ہڈی ٹوٹنے، قد گھٹنے یا ہڈیوں کی کمزوری کے خطرات پر ہڈیوں کی کثافت کی جانچ زیرِ غور آ سکتی ہے۔

چہل قدمی کے ساتھ طاقت کی ورزش

چہل قدمی اور حسبِ استطاعت سیڑھیاں چڑھنا جسم کا وزن سنبھالنے والی سرگرمیاں ہیں۔ پٹھوں کے لیے مزاحمتی ورزش بھی شامل کریں، جیسے کرسی سے اٹھنا بیٹھنا، دیوار کے سہارے دھکا دینا یا ہلکے وزن اٹھانا۔ کم سے شروع کرکے بتدریج بڑھائیں؛ تسلسل اہم ہے۔

جوڑوں کے درد، چکر، دل کی بیماری یا ہڈیوں کی کمزوری میں محفوظ طریقہ ڈاکٹر یا فزیوتھراپسٹ سے طے کریں۔ توازن کی مشقیں گرنے کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ ورزش نیند اور صحت کو سہارا دیتی ہے، مگر وزن میں کسی مخصوص کمی کی ضمانت نہیں۔

کب طبی مشورہ لینا چاہیے؟

مسلسل خراب نیند، پریشان کن گرمی کی لہروں، اندام نہانی کی خشکی یا مزاج کی تبدیلی کے لیے مدد لیں۔ بارہ ماہ ماہواری بند رہنے کے بعد کسی بھی خون آنے کی جلد جانچ ضروری ہے۔ عبوری برسوں میں بہت زیادہ یا غیر معمولی خون کو بھی صرف عمر کا اثر نہ سمجھیں۔

بلاوجہ وزن تیزی سے بدلنے، واضح کمزوری یا معمولی چوٹ سے ہڈی ٹوٹنے پر معائنہ کروائیں۔ سینے میں درد، اچانک سانس پھولنے یا بے ہوشی میں فوری طبی مدد لیں۔ ہارمون متبادل علاج، یعنی HRT، بعض علامات کے لیے زیرِ غور آ سکتا ہے؛ یہ وزن گھٹانے کا علاج نہیں۔ اس کے فائدے اور خطرات ذاتی طبی تاریخ کے مطابق طے ہوتے ہیں۔

  • وزن اخلاقی کامیابی یا ناکامی نہیں۔
  • گھر کے کھانے میں پروٹین اور کیلشیم کو باقاعدہ جگہ دیں۔
  • وٹامن ڈی اور سپلیمنٹ کی ضرورت انفرادی ہے۔
  • چہل قدمی کے ساتھ محفوظ طاقت کی ورزش کریں۔

مشاورتی ماخذ: NICE کی مینوپاز رہنمائی NG23: https://www.nice.org.uk/guidance/ng23 ؛ انڈین مینوپاز سوسائٹی کی طبی رہنمائی: https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC7688016/

ڈاکٹر منور ثنا سے اپولو فرٹیلیٹی، کونڈاپور، حیدرآباد میں یا آن لائن ذاتی مشورے کے لیے اپائنٹمنٹ بُک کریں۔

Talk to Dr. Sana

Want a personalised plan based on your reports?

Book an online consultation with Dr. Sana, or see her at Apollo Fertility, Kondapur (Mon, Tue, Wed, Thu & Sat, 1:00 PM – 6:00 PM). No referral required.

References & clinical guidelines

  1. Indian Council of Medical Research — National ART Guidelines and the ART (Regulation) Act, 2021
  2. ESHRE — European Society of Human Reproduction and Embryology, clinical practice guidelines
  3. NICE CG156 — Fertility problems: assessment and treatment
  4. Royal College of Obstetricians and Gynaecologists — patient information and guidelines
Book a Consultation
Book a consultation