انڈے فریز کروانا کیا صرف شادی دیر سے ہونے کی صورت میں سوچنا چاہیے؟ ضروری نہیں۔ کبھی تعلیم، ملازمت یا مناسب رشتے کا انتظار وجہ ہوتا ہے، تو کبھی ایسا علاج جس سے بیضہ دانی متاثر ہو سکتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ فیصلہ خوف یا خاندانی دباؤ میں نہیں، اپنی صحت اور مستقبل کی خواہش سمجھ کر ہو۔
میں ڈاکٹر منور ثنا، بارآوری اور مینوپاز کی ماہر ہوں۔ میری نظر میں یہ گفتگو صرف عمر کے ایک عدد کے بارے میں نہیں۔ آپ کی طبی کیفیت، ماں بننے کی خواہش، دستیاب وقت اور خرچ، سب اہم ہیں۔ انڈے محفوظ کرنا ایک ممکنہ راستہ ہے؛ ہر خاتون کے لیے ضروری علاج نہیں۔
صحیح عمر کیا ہے، اور کن حالات میں سوچنا چاہیے؟
انڈے فریز کرنے میں بیضہ دانی سے انڈے نکال کر بہت کم درجۂ حرارت پر محفوظ کیے جاتے ہیں۔ بعد میں ضرورت پڑنے پر انہیں پگھلا کر IVF میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ عموماً کم عمر میں حاصل کیے گئے انڈوں کا معیار بہتر ہوتا ہے، لیکن کسی ایک عمر کو سب کے لیے درست کہنا مناسب نہیں۔
اگر آپ کئی سال حمل مؤخر کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، تو تیس کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں معلومات لینا فائدہ مند ہو سکتا ہے۔ پینتیس سال کے بعد عمر کے ساتھ انڈوں کی تعداد اور معیار میں کمی زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔ بڑی عمر میں بھی جائزہ ممکن ہے، مگر توقعات حقیقت پسندانہ رکھنا ضروری ہے۔
کینسر کے بعض علاج، بیضہ دانی کی مجوزہ سرجری یا خاندان میں جلد مینوپاز کی تاریخ ہو تو جلد مشورہ اہم ہے۔ کینسر کی صورت میں متعلقہ ڈاکٹر کے ساتھ مل کر وقت طے ہوتا ہے؛ ضروری علاج خود سے مؤخر نہ کریں۔ شادی شدہ یا غیر شادی شدہ ہونا، اکیلے، طبی ضرورت کا پیمانہ نہیں۔
گھر میں شادی یا بچوں کے بارے میں بات چلے تو یہ سننا آسان ہے کہ ابھی بہت وقت ہے، یا اب دیر ہو گئی۔ دونوں جملے نامکمل ہو سکتے ہیں۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ آپ اپنے حالات سمجھیں۔ شوہر یا سسرال کی رائے اہم محسوس ہو سکتی ہے، مگر آپ کی رضامندی بنیادی ہے۔
پہلی ملاقات سے انڈے محفوظ ہونے تک
پہلی ملاقات میں ماہواری، سابقہ حمل، آپریشن، دواؤں اور خاندانی تاریخ پر بات ہوتی ہے۔ الٹراساؤنڈ سے بیضہ دانی کے چھوٹے فولیکلز، یعنی انڈے رکھنے والی تھیلیوں، کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ AMH خون کا ٹیسٹ ممکنہ انڈوں کی تعداد اور دواؤں کے متوقع ردعمل سمجھنے میں مدد دیتا ہے؛ یہ انڈوں کے معیار کا حتمی ٹیسٹ نہیں۔
AMH کم آنے کا مطلب یہ نہیں کہ قدرتی حمل ناممکن ہے۔ اسی طرح نارمل یا زیادہ AMH مستقبل میں حمل کی ضمانت نہیں۔ عمر، الٹراساؤنڈ اور مکمل طبی کیفیت ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔ حسبِ ضرورت دوسرے خون کے ٹیسٹ اور انفیکشن کی جانچ بھی ہوتی ہے، پھر علاج اور تحریری رضامندی کی تفصیل سمجھائی جاتی ہے۔
اگلے مرحلے میں ہارمون کے انجیکشن دیے جاتے ہیں تاکہ ایک ماہ میں کئی فولیکلز بڑھ سکیں۔ یہ مرحلہ اکثر تقریباً دس سے چودہ دن رہتا ہے، مگر مدت مختلف ہو سکتی ہے۔ دورانِ علاج الٹراساؤنڈ اور کبھی خون کے ٹیسٹ ہوتے ہیں۔ انجیکشن کی مقدار ہر مریضہ کے مطابق طے ہوتی ہے۔
فولیکلز مناسب مرحلے پر پہنچیں تو آخری پختگی کے لیے مخصوص انجیکشن دیا جاتا ہے۔ پھر مقررہ وقت پر عموماً اندام نہانی کے راستے، الٹراساؤنڈ کی مدد سے انڈے نکالے جاتے ہیں۔ آرام یا مختصر بے ہوشی کی دوا دی جا سکتی ہے۔ عموماً پیٹ پر چیرا نہیں لگتا اور اسی دن گھر جانا ممکن ہوتا ہے۔
لیبارٹری میں پختہ انڈوں کو تیزی سے ٹھنڈا کرنے کے طریقے، جسے وٹریفکیشن کہتے ہیں، سے محفوظ کیا جاتا ہے۔ ہر فولیکل میں انڈا نہیں ملتا اور ہر انڈا پختہ نہیں ہوتا۔ کبھی ایک سے زیادہ دور درکار ہوتے ہیں۔ محفوظ رکھنے کی شرائط، مدت، تجدید، رضامندی اور مقامی قواعد پہلے سمجھ لیں۔
فائدے، خطرات، خرچ اور میری جامع نگہداشت
سب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ آج حاصل کیے گئے انڈے مستقبل کے استعمال کے لیے دستیاب رہ سکتے ہیں۔ لیکن ہر انڈا پگھلنے کے بعد نہیں بچتا، ہر انڈے سے ایمبریو نہیں بنتا، اور ہر ایمبریو سے حمل نہیں ٹھہرتا۔ کامیابی انڈے حاصل کرنے کی عمر سمیت کئی عوامل پر منحصر ہے۔
انڈے نکالنے کے بعد ہلکا درد، پیٹ پھولنا یا معمولی خون آنا ہو سکتا ہے۔ کم مواقع پر خون بہنے، انفیکشن یا بیضہ دانی کے ضرورت سے زیادہ ردعمل کا خطرہ ہوتا ہے۔ PCOS میں نگرانی خاص اہم ہے۔ شدید درد، تیزی سے بڑھتا پھولاؤ، سانس کی تکلیف یا پیشاب کم ہو تو فوراً کلینک سے رابطہ کریں۔
خرچ انجیکشن، ٹیسٹ، نگرانی، انڈے نکالنے، بے ہوشی، لیبارٹری اور محفوظ رکھنے کی فیس پر منحصر ہوتا ہے۔ اضافی دور اور مستقبل میں IVF کے اخراجات الگ ہو سکتے ہیں۔ اس لیے کوئی ایک مقررہ قیمت بتانا درست نہیں۔ مشورے اور ابتدائی جائزے کے بعد ذاتی تخمینہ دیا جاتا ہے؛ شامل خدمات واضح پوچھیں۔
میری 360° نگہداشت میں سائنسی شواہد پر مبنی علاج کے ساتھ غذائیت، یوگا اور طرزِ زندگی کی رہنمائی شامل ہے۔ دال، سبزی، پھل اور مناسب پروٹین والی متوازن غذا، نیند اور تمباکو سے دوری مفید ہیں۔ کوئی خاص غذا انڈوں کی عمر واپس نہیں کرتی۔ علاج کے دوران سخت ورزش یا پیٹ موڑنے والے یوگا سے پہلے مشورہ لیں۔
عام غلط فہمیاں اور حقیقت
غلط فہمی: انڈے فریز کرا لیے تو بعد میں بچہ ضرور ہوگا۔ حقیقت: یہ امکان محفوظ کرنے کی کوشش ہے، ضمانت نہیں۔ کم عمر کے انڈے محفوظ ہونے کے باوجود بعد کی عمر میں حمل کے دوران بلڈ پریشر یا ذیابیطس جیسے مسائل کا جائزہ ضروری رہتا ہے۔
غلط فہمی: انجیکشن سارے انڈے ختم کر دیتے ہیں اور فوراً مینوپاز آ جاتا ہے۔ حقیقت: عموماً اس ماہ بڑھنے والے فولیکلز کے گروہ کو تحریک ملتی ہے؛ پورا ذخیرہ ایک ساتھ استعمال نہیں ہوتا۔ غلط فہمی: دیسی نسخے یہی کام کر سکتے ہیں۔ حقیقت: کسی غذا یا جڑی بوٹی سے انڈے محفوظ کرنے کا متبادل ثابت نہیں ہوا۔
یاد رکھنے کی اہم باتیں
فیصلے میں عمر، طبی ضرورت، ممکنہ فائدہ اور خرچ ساتھ دیکھیں؛ صرف AMH رپورٹ نہیں۔ ہر مریضہ کو یہ علاج درکار نہیں۔ مذہبی سوالات ہوں تو علاج کی تفصیل جان کر اپنے معتبر عالم سے رہنمائی لے سکتی ہیں۔ اپنی پسند کے گھر والے کو گفتگو میں شامل کریں، مگر دباؤ میں رضامندی نہ دیں۔
Want a personalised plan based on your reports?
Book an online consultation with Dr. Sana, or see her at Apollo Fertility, Kondapur (Mon, Tue, Wed, Thu & Sat, 1:00 PM – 6:00 PM). No referral required.
References & clinical guidelines
- Indian Council of Medical Research — National ART Guidelines and the ART (Regulation) Act, 2021
- ESHRE — European Society of Human Reproduction and Embryology, clinical practice guidelines
- NICE CG156 — Fertility problems: assessment and treatment
- Royal College of Obstetricians and Gynaecologists — patient information and guidelines



